تبليغاتX
مینہ
http://www.mediafire.com/imageview.php?quickkey=5mnnq1jcmmq&thumb=4

+ :تحریر مینہ میگزین کا ادارہ دن 2009/11/30 اور وقت 20:20 |

 

قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے

 

اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

 

 

 

+ :تحریر مینہ میگزین کا ادارہ دن 2009/11/22 اور وقت 5:59 |

 

فرمان خداوندی

 

لاَ يُكَلِّفُ اللّہُ نَفْسًا إِلاَّ وُسْعَہَا لَہَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْہَا مَا اكْتَسَبَتْ رَبَّنَا لاَ تُؤَاخِذْنَا إِن نَّسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا رَبَّنَا وَلاَ تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَہُ عَلَی الَّذِينَ مِن قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلاَ تُحَمِّلْنَا مَا لاَ طَاقۃَ لَنَا بِہِ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَآ أَنتَ مَوْلاَنَا فَانصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ (سورۀ بقره ايت 286 )

 

(( اللہ کسی نفس کو اس کی وسعت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا . ہر نفس کے لئے اس کی حاصل کی ہوئی نیکیوں کا فائدہ بھی ہے اور اس کی کمائی ہوئی برائیوں کا مظلمہ بھی---- پروردگار! ہم جو کچھ بھول جائیں یا ہم سے غلطی ہوجائے اس کا ہم سے مواخذہ نہ کرنا . خدایا ہم پر ویسا بوجھ نہ ڈالنا جیسا پہلے والی امتوں پر ڈالا گیا ہے پروردگار ! ہم پر وہ بار نہ ڈالنا جس کی ہم میںطاقت نہ ہو . ہمیں معاف کردیناً ہمیں بخش دیناً ہم پر رحم کرنا توہمارا مولا اور مالک ہے اب کافروں کے مقابلہ میں ہماری مدد فرما ))

+ :تحریر مینہ میگزین کا ادارہ دن 2009/11/22 اور وقت 5:58 |

پاکستان میں دہشت گردی

 

(اداریہ)

 

جیسے جیسے  دہشت گردوں کے خلاف پاکستانی فوج کی کامیابیوں کی خبریں آرہی ہیں ویسے ویسے دہشت گردی کے واقعات میں بھی اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ گزشتہ ایک ماہ کے دوران دہشت گردوں نے پشاور ، راولپنڈی، لاہور ، ملتان  اور یہاں تک کہ دارالحکومت اسلام آباد کے حساس علاقوں میں دہشت گردی کی کئی کاروائیاں انجام دی ہیں جن میں متعدد بے گناہ بچے ، عورتیں اور مرد شہید اور لاتعداد زخمی ہوئے ہیں۔دہشت گردی کے حالیہ واقعے میں روالپنڈی کے حساس علاقے میں واقع ایک مسجد کو بھی نشانہ بنایا گیا، جہاں دہشت گردوں نے نماز جمعہ کے دوران نمازیوں پر ہینڈ گرنیڈ پھینکے فائرنگ کی اور  کچھ نے مسجد میں داخل ہو کر خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ دہشت گردی کے افسوس ناک واقعے میں پچاس کے قریب نمازی شہید ہوئے جن میں کم سن و سال بچوں کی بھی ایک بڑی تعد اد شامل ہے


مکمل تحریر
+ :تحریر مینہ میگزین کا ادارہ دن 2009/11/22 اور وقت 5:57 |

تزكيہ نفس

(دوسرا حصہ)

 

 

آيت اللہ ابراہيم اميني

ترجمہ :مرحوم علامہ شيخ اختر عباس

 

 

بزرگ شناسى و خودسازي

گرچہ انسان ايك حقيقت ہے ليكن يہ مختلف جہات اور اوصاف ركھتا ہے_ انسان كے وجود كا ايك مٹى كے جوہر سے جو بے شعور ہے آغاز ہوا ہے اور پھر يہ جوہر مجرد ملكوتى تك جاپہنچتا ہے خداوند عالم قرآن مجيد ميںفرماتا ہے كہ '' خداوند وہ ہے كہ جس نے ہر چيز كو اچھا پيدا كيا ہے اور انسان كو مٹى سے بنايا ہے اور اس كى نسل كو بے وقعت پانى يعنى نطفہ سے قرار ديا ہے پھر اس نطفہ كو اچھا اور معتدل بنايا ہے اور پھر اس ميں اپنى طرف منسوب روح كو قرار ديا ہے اور تمہارے لئے كان، آنكھ اور دل بنايا ہے اس كے باوجود تم پھر بھى بہت كم اس كا شكريہ ادا كرتے ہو_(8)


مکمل تحریر
+ :تحریر مینہ میگزین کا ادارہ دن 2009/11/22 اور وقت 5:56 |

 

ہندوئوں میں امام حسین (ع) سے عقیدت کی تاریخی روایات

 

 

انسان کو بیدار تو ہو لینے دو

ہر قوم پکاریگی ہمارے ہیں حسین

 

 

تحریر: سیدعلی ظہیر

 

زمانہ ایسے تاریخ ساز واقعات کوکبھی بھلانہ سکا جو خود اپنی نظیرنہیں رکھتے۔ سانحہ کربلا انسانی تاریخ کا ایسا ہی تاریخ ساز واقعہ ہے جس کی نظیرتاقیامت نہ مل سکے گی۔
انسانی تاریخ کے سیل رواں میں حق وباطل کے درمیان بے شمارواقعات کا ایک طویل سلسلہ ملتا ہے۔کتنے واقعات غبار وقت کی گرد میں گم ہوکررہ گئے۔زمانہ ایسے تاریخ ساز واقعات کوکبھی بھلا نہ سکا جو خود اپنی نظیرنہیں رکھتے۔ سانحہ کربلا انسانی تاریخ کا ایسا ہی تاریخ ساز واقعہ ہے جس کی نظیرتا قیامت نہ مل سکے گی۔
واقعہ کربلا کے عظیم المیہ نے حق پسند انسانی معاشرے اورانسانی تہذیب کو ہر دور میں متاثرکیا ہے۔ یہی سبب ہے کہ ہندوستانی معاشرہ میں شہید انسانیت امام حسین(ع)  کی یاد نہ صرف مسلم معاشرہ کی تہذیبی وتاریخی روایت رہی ہے بلکہ غیرمسلم معاشرہ میں بھی انسانیت کے ا س عظیم رہنما کی یاد بڑی عقیدت واحترام کے ساتھـ عصرحاضرمیں بھی قائم ہے۔


مکمل تحریر
+ :تحریر مینہ میگزین کا ادارہ دن 2009/11/22 اور وقت 5:53 |

ذخیرہ اندوزی اور حکومت کی ذمہ داریاں

 

 دوسرا حصہ

 

 

ذخیرہ اندوزی اور اس کی سزا

 

مالک اشتر کے نام امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کے عہد نامہ میں آیا ہے:

“ اس کے باوجود یہ جان لو کہ ان میں سے بہت سے لوگ بڑے تنگ نظر اور ذلیل و بخل و طمع رکھتے ہیں منافع میں ذخیرہ اندوزی اور لین دین میں زور و زبردستی سے کام لیتے ہیں یہ کام عوام کے حق میں نقصان دہ اور حکام کے لئے ننگ و عار کا سبب ہے لہٰذا لوگوں کو ذخیرہ اندوزی سے روکو کیوں کہ رسول خدا (ص)  نے اس سے منع فرمایا ہے“


مکمل تحریر
+ :تحریر مینہ میگزین کا ادارہ دن 2009/11/22 اور وقت 5:51 |

 

بقائے عظمت انسان ہے پیام حسین

 

ساغر شہزاد


بقائے   عظمت    انسان    ہے    پیام   حسین 
شعور   و   فہم  سے  ہے  ماورا   مقام  حسین


دلیل    عظمت    آدم    وقار    عیسئ    بھی
سناں  کی   نوک   پہ   وہ  گونجتا  کلام  حسین

حقیر    لگتے   ہیں   مجھ    کو    سکندر   و  دارا

پکارتا  ہے   کوئی  جب  مجھے    غلام   حسین

قسم  ہے خاک   مدینہ  کی  مجھ  کو  اے  ساغر

لب   حیات  پہ  روشن  رہے    گا  نام  حسین

فلک ستارے  زمیں  پھول  اورمیری آنکھیں
ہر  ایک شے  کو  جہاں میں ہے احترام حسین

 

+ :تحریر مینہ میگزین کا ادارہ دن 2009/11/22 اور وقت 5:49 |

 

روشن ہےتیرےنام سےنامِ وفا حسین

 

شگن چندر روشن پانی پتی

 

زینب کی ماں کےلاڈلےاےبےخطا حسین

روتےہیں تری یاد میں اہلِ وفا حسین

 

محشر میں غل مچےگا دہائی حسین کی

ظالم بھی چیخ چیخ پکاریں گےیاحسین

 

    میدانِ کارزار میں تو سرخرو ہوا

زخموں کا تو نےسرخ کفن لےلیا حسین

 

رک رک کےآئی آخری ہچکی جو موت کی

بولےزبانِ غیب سےشیر خدا حسین

 

اصغر سےشیر خوار کو نیزےپہ جب لیا

ارض و سما سےآئی یہ آواز یاحسین

 

پیاسےبلائےجائینگےمحشر میں جس گھڑی

کوثر کےجام دیں گےشہ کربلا حسین 

 

پڑھتےہیں تجھ پہ دل سےدرود اور فاتحہ

اٹھتےہیں تیرےنام پہ دستِ دعا حسین

  

محشر کا خوف کیا ہےشہیدانِ کربلا

بیٹھےہوئےملیں گےقریبِ خدا حسین

 

تو نےشہید ہو کےجفا کو مٹا دیا

روشن ہےتیرےنام سےنامِ وفا حسین

+ :تحریر مینہ میگزین کا ادارہ دن 2009/11/22 اور وقت 5:47 |

 

شامِ غریباں

پروین شاکر

غنیم کی سرحدوں کے اندر

زمینِ نامہرباں پہ جنگل کے پاس ہی

شام پڑ چکی ہے

ہوا میں کچے گلاب جلنے کی کیفیت ہے

اور ان شگوفوں کی سبز خوشبو

جو اپنی نوخیزیوں کی پہلی رتوں میں

رعنائیِ صلیبِ خزاں ہوئے

اور بہار کی جاگتی علامت ہوئے ابد تک

جلے ہوئے راکھ خیموں سے کچھ کھلے ہوئے سر

ردائے عفت اوڑھانے والے

بریدہ بازو کو ڈھونڈتے ہیں

بریدہ بازو کہ جن کا مشکیزہ

ننھے حلقوم تک اگرچہ پہنچ نہ پایا

مگر وفا کی سبیل بن کر

فضا سے اب تک چھلک رہا ہے

برہنہ سر بیبیاں ہواؤں میں سوکھے پتوں

کی سرسراہٹ پہ چونک اٹھتی ہیں

بادِ صرصر کے ہاتھ سے بچنے

والے پھولوں کو چومتی ہیں

چھپانے لگتی ہیں اپنے دل میں

بدلتے، سفاک موسموں کی ادا شناسی نے چشمِ

حیرت کو سہمناکی کا مستقل رنگ دے دیا ہے

چمکتے نیزوں پہ سارے پیاروں کے سر سجے ہیں

کٹے ہوئے سر

شکستہ خوابوں سے کیسا پیمان لے رہے ہیں

کہ خالی آنکھوں میں روشنی آتی جارہی ہے

+ :تحریر مینہ میگزین کا ادارہ دن 2009/11/22 اور وقت 5:40 |

 

  

 

 

 

امریکی امداد اور مطالبات

 (اداریہ)

 

گزشتہ دنوں امریکی سینٹ نے پاکستان کے لیے فوجی اور غیر فوجی امداد میں اضافے کا بل منظور کیا ہے جسکی رو سے امریکہ پاکستان کو پانچ سال کی مدت میں ساڑھے سات ارب ڈالر کی امداد فراہم کرے گا۔ کیری لوگر کے نام سے معروف اس بل کی منظوری کے بعد پاکستان کو ملنے والی امریکی امداد میں تین گنا اضافہ ہوجائے گا۔ لیکن امریکی سینٹ نے اس امداد کودہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے موثر اور ٹھوس تعاون سے مشروط کردیا ہے اور اوباما انتظامیہ کو اس بات کا پابند کیا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کا جائزہ لینے کے بعد امداد فراہم کرے اور اس سے سینٹ کو بھی آگاہ کیا جائے۔ پاکستان کے لیے مشروط امریکی امداد سے اس بات کی بخوبی نشاندھی ہوتی ہے کہ امریکہ اس امداد کو اب دباؤ کے ایک ہتھکنڈے کے طور پر استمعال کریگا اور مطالبات کی ایک نئی فہرست پاکستان کو دی جائے گی ۔

ادھرآئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل ریٹائرڈ حمید گل نے پریس ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کو سالانہ ایک ارب پچاس کڑور ڈالر کی امداد میں سے رواں سال کی مد میں محض سترہ کروڑ ڈالر ادا کيے گئے ہیں جو حکومت کے لیے ناکافی ہیں۔ جبکہ باقی رقم امریکہ براہ راست پاکستان میں خرچ کریگا۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ امریکہ پاکستان میں بڑا جاسوسی نیٹ ورک قائم کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ اور اس کے لیے بہانہ یہ تراشا جائے گا کہ ہم چونکہ پاکستان میں براہ راست سرمایہ کاری کر رہے ہیں لیہذا ہمیں سیکورٹی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ بھی خدشہ ظاہرکیا کہ امریکہ پاکستان کے جوہری اثاثوں تک رسائی حاصل کرنے کے لیے یہ سب کچھ کررہا ہے۔ جنرل حمید گل کا کہنا تھا کہ" The are inching close to) those nuclear assets day by day. They are getting very close and I am sure they are, because of their intelligence tentacles there, they are trying to gather information so that whatever surgical operation they have to carry out against our nuclear assets.")

جنرل حمید گل کے خدشات کو اس بات سے بھی تقویت ملتی ہے کہ امریکی حکام ماضی میں یہ کہتے رہے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کا آخری معرکہ پاکستان میں ہوگا اور اب انہوں نے یہ بھی کہنا شروع کردیا ہے کہ القاعدہ کے اہم لوگ افغانستان میں بلکہ پاکستان کی سرزمین پر ہیں۔ اس حوالے سے امریکی فوج کے چیف آف اسٹاف جنرل مائیکل مولن کا یہ بیان بھی خطرے کی گھنٹی سے کم نہیں ہے جس میں انہوں نے کہا ہے اگر ہمیں پاکستان کے اندر القاعدہ کے کسی اہم رہنما کی موجودگی کا پتہ چلا تو ہم از خود حملہ کریں گے۔امریکہ ہمارے اقتدار اعلی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آئے دن قبائیلی علاقوں پر ڈرون حملے کرتا رہتا ہے اور حکومت محض زبانی جمع خرچ سے کام لے رہی ہے۔ ادھرتواترکے ساتھـ اخبارات اور جرائد میں، پاکستان میں بدنام زمانہ امریکی سیکورٹی کمپنی بلیک واٹر کی موجودگی اور اسلام آباد کے امریکی سفارت خانے کی توسیع کے بارے میں خبریں شائع ہوتی رہیں۔ اطلاعات ہیں کہ سابقہ بلیک واٹر کمپنی نے زی ورلڈ وائیڈ سیکورٹی کے نام سے پاکستان میں اپنی سرگرمیاں شروع کردی ہیں اور وہ بھاری معاوضے کے بدلے بڑے پیمانے پر لوگ بھرتی کررہی ہے جن میں زیادہ تر سابق فوجی اور سیکورٹی افسران شامل ہیں۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ مقامی لوگوں کی بھرتی تو محض ایک شیلٹر ہے جسکے سائے میں  ڈیلٹا فورس قائم کی جارہی ہے جس میں امریکی ایجنٹ اور سی آئی اے کے اہلکار شامل ہونگے جوروانی کے ساتھـ مقامی زبان بولتے ہونگے اور ڈاڑھیاں بھی بڑھائیں گے۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ اس حوالے سے سابق فوجی حکمرا پرویز مشرف کے دور میں ایک معاہدہ امریکہ کے ساتھـ ہوا تھا اور موجودہ حکومت اسکی پابندی کرنے پر مجبور ہے۔ پاکستان کے لیے ساڑھے سات ارب ڈالر کی امریکی امداد بھی اسی معاہدے کے تحت منظور کی گئی ہے۔ اگر یہ خبریں درست ہیں تو پھر یقینا یہ ہماری خود مختاری اور داخلی سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کے مقتدر حلقوں اور سیاسی ومذہبی جماعتوں نے اس بارے میں تشویش اور خدشات کا اظہار کیا ہے۔ اگرچہ وزیر داخلہ نے قومی اسبملی میں بیان دیتے ہوئے پاکستان میں بلیک واٹر نامی سیکورٹی ایجنسی کی موجودگی کی تردید کی اور اسلام اباد کے امریکی سفارت خانے کی توسیع کے بارے میں سیاسی جماعتوں اور صحافتی حلقوں کے خدشات کو بے بنیاد قرار دیا ہے لیکن عوامی جمہوریہ چین کے سفیر نے امریکی سفارت خانے کی توسیع کے حوالے اپنے ملک کے تحفظات کا اظہار کیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دال میں کچھـ  کالا ضرور ہے۔ لہذا حکومت کو عوامی اور سیاسی حلقوں نیز اپنے دیرینہ دوست ملک عوامی جمہوریہ چین کے خدشات پر ضرور توجہ دینا چاہیے اس حوالے سے عوام کے سامنے حقائق بیان کرنا ضروری ہیں تاکہ ملک کی مجموعی صورتحال کے بارے میں رائے عامہ ہموار ہوسکے ۔ اور اگر اس سلسلےمیں سابق حکومت کے دور میں امریکہ کے ساتھـ کوئی معاہدہ ہوا ہے تو اس کے مندرجات بھی عوام کے سامنے لائے جانا چاہیں۔ کیونکہ عوام سے حقائق چھپانا عوامی حکومت کے شایان شان نہیں ہے۔ بلکہ ہم تو یہ کہیں گے کہ عوامی  حکومت ایسے کسی بھی معاہدے کو جوقومی مفادات کے منافی ہو اور جس سے ہماری خودمختاری پرحرف آئے فوری طور پر منسوخ کردینا چاہیے۔ حکومت کو ملک کے جوہری اثاثوں کی بھی حفاظت کے لیے خصوصی اقدامات کرنا ہونگے جوہماری  دفاعی صلاحیتوں کا اہم حصہ ہیں اور انکے لیے ہمارے سائنسدانوں نے برسوں عرق ریزی کی ہے۔ اگر ہمارے جوہری اثاثوں پر کوئی آنچ آتی ہے تو یہ ہماری بہت بڑی بدقستی ہوگی۔ یقینا کوئی بھی حکومت ہرگز ایسا نہیں ہونے دیگی ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ عوام کی منتخب کردہ حکومت کوکسی بیرونی طاقت پر نہیں بلکہ اپنے ملک کے غیور اور بہادر لوگوں پر بھروسہ کرنا چاہیے جنہوں نے  ہر ہر موقع پر وطن کے دفاع کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔ یہ تو ہمارے حکمرانوں کی نااہلی اور غلط منصوبہ بندی تھی جس نے لوگوں کو کبھی فرقہ واریت کی آگ میں  دھکیلا تو کبھی طالبان کے ظلم وستم کے درمیان تنہا چھوڑ دیا۔ اگر آج پاک فوج کودین کے نام پر بے گناہ انسانوں کے خون کے پیاسے دہشت گردوں اور مساجد میں خودکش حملے کرنے والوں پر کامیابی حاصل ہورہی ہے تویہ عوام کی بھرپور حمایت اور قربانیوں کی بدولت ہےجنہوں نے صبرو تحمل سے کام لیا۔ اپنا گھربار چھوڑا کیمپوں میں زندگی گزاری اوریہاں تک پاک فوج کے شانہ بشانہ دہشت گردوں کے خلاف کاروائیوں میں جصہ لیا اور اب بھی لے رہے ہیں۔ ہمارے حکمران اگر دھشتگردی کو ختم کرنے میں واقعی مخلص ہے تو پھر انپے ملک کے عوام قدر کرنا چاہیے اور ان پر اعتماد کرتے ہوئے امریکہ پر واضح کردینا چاہیے کہ پاکستان کو اپنی سلامتی کے لیے غیرملکی سیکورٹی فورسز کی ضرورت نہیں ہے۔ پاک فوج اندرونی اوربیرونی خطرات سے نمٹنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے اور ملک کے دفاع میں لڑی جانے والی جنگوں اور اندرون ملک دہشت گردی پھیلانے والوں کے خلاف آپریشن میں اپنی اہلیت پوری طرح ثابت کرچکی ہے۔ لہذا حکومت کو امریکہ سے خوف کھائے بغیر ایک بار اپنے عوام پر بھروسہ کرنا ہوگا کیونکہ عوام کی طاقت وہ کچہـ کر دکھاتی ہے جو بڑی طاقتوں کے وہم وگمان بھی نہیں ہوتا۔ اسرائیل کے خلاف 33 روزہ جنگ میں حزب اللہ کی اور بائیس روزہ جنگ میں حماس کی کامیابی اس کی واضح مثالیں ہیں جب عوامی طاقت نے ساری دنیا کی سامراجی طاقتوں کے منظور نظر اسرائیل کے ناقابل تسخیر ہونے کا طلسم ہمیشہ کے لیے چکنا چورکردیا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 

 

 

+ :تحریر مینہ میگزین کا ادارہ دن 2009/9/23 اور وقت 5:59 |

فتنہ

 

فتنہ و فساد میں اس طرح رہو جس طرح اونٹ کا وہ بچہ جس نے ابھی اپنی عمر کے دو سال ختم کئے ہوں کہ نہ تو اس کی پیٹھ پر سوار ی کی جا سکتی ہے اور نہ اس کے تھنوں سے دودھ  دوہا جا سکتا ہے ۔ ( حضرت علی علیه السلام )

 

+ :تحریر مینہ میگزین کا ادارہ دن 2009/9/23 اور وقت 5:59 |

 

یورپ میں -حجاب- سیکولر قانون کی زد میں

 

 

شیخ عبدالمجید، جرمنی

 

مغربی دنیا کی مذہب سے دوری کے فاصلے اتنے بڑھ چکے ہیں کہ ان کی مذہب سے عدم دلچسپی اور لا تعلقی نے مذہب کی جگہ ان کے کلچر اور تہذیب نے لے لی ہے ۔ ۔یورپ میں عیسائیت کی بنیادی تعلیم تو مسخ شدہ عیسائیت میں پہلے ہی دکھائی نہیں دیتی تھی ۔ لیکن مذہب سے عملاََ لاتعلقی نے اور ان کی اخلاق سے عاری تہذیب نے بے حیائی و بدکاری کے بہت سے گل کھلائے ہیں ۔ گویا یورپ میں اب مسخ شدہ عیسائی مذہب کی بھی چند مذہبی رسومات باقی ہیں۔ اور ان کی تمدنی ترقی نے جو مادہ پرست تہذیب پیدا کی ہے گویا مذہب کی جگہ یہ اپنی تہذیب کی پیروی کرنے پر مجبور ہیں ۔ مذہبی اخلاق اور عام نیک اقدار سے عاری اپنی مادر پدر آزاد تہذیب کی پیروی کرنے والے یورپ میں مذہب بے حقیقت ہو کر رہ گیا ہے ۔ اور عیسائی مذہب کی بنیادی تعلیم کی نیک اقدار بھی لادینی تہذیب کے تابع ہو کر رہ گئی ہیں ۔ مغربی اقوام اخلاق باختہ ہو چکی ہیں ۔ کیونکہ ان کی تہذیب میں آزادی کے نام پر بے حیائیاں اختیا ر کی جارہی ہیں۔ اسی لئے مغربی سوسائیٹی میں کوئی اخلاقی سماجی قدغن نہیں ۔ اپنے لئے یہ لوگ بڑے حساس ہیں . لباس کا معاملہ آئے تو کہتے ہیں کہ ہم جیسے کپڑ ے پہنیں" چاہیں تو ننگے پھریں لیکن دوسری طرف یہ مسلمان عورتوں کے حجاب یا سکارف پر بھی معترض ہیں ۔ گویا اہل یورپ کے نزدیک ان کے کلچر و تہذیب کا تقاضا ہے کہ اہل مشرق جو یورپ میں مقیم ہیں وہ اپنی اسلامی تہذیبی اقدار کو ترک کرکے ہمارے کلچر رہن سہن کو اپنائیں۔ بصور ت دیگر یورپ میں مقیم بالخصوص خواتین کا باپردہ لباس نسلی منافرت میں اضافہ کا باعث بن سکتا ہے۔

 


مکمل تحریر
+ :تحریر مینہ میگزین کا ادارہ دن 2009/9/23 اور وقت 5:57 |

 

عظیم مسلمان سا‏ئنسدان " بو علی سینا "

 

 

 بو علی حسین بن عبداللہ بن سینا 980  عسیوی بمطابق 370 ہجری قمری کو بخارا میں پیدا ہوۓ  ۔ ان کے والد کا نام عبداللہ تھا جو  بلخ کے رہنے والے تھے اور  نوح بن منصور سامانی کے دور حکومت میں بخارا ہجرت کر گۓ اور یہاں ان کے والد کو انتظامی امور میں ایک اچھے عہدے پر فائز کر دیا گیا ۔


مکمل تحریر
+ :تحریر مینہ میگزین کا ادارہ دن 2009/9/23 اور وقت 5:54 |